بھٹکل 28؍مارچ (ایس او نیوز) اس وقت ساحلی کرناٹکا میں بھٹکل اسمبلی حلقے کو بڑی اہمیت کی نظر سے دیکھا جارہا ہے ۔یہاں کی سیٹ بی جے پی، کانگریس اور جنتا دل تینوں کے لئے یکساں طور پر بڑی اہمیت رکھتی ہے۔آئیے اس موقع پر 1957سے اب تک یہاں پر جیت حاصل کرنے والے امیدواروں پر نظر ڈالتے ہیں جو نامدھاری اور مسلمان طبقے کے درمیان ایک اچھلتی ہوئی گیند کی طرح ہے۔کیونکہ اب تک یہاں سے چار مرتبہ مسلم امیدواروں نے کامیابی حاصل کی ہے ، سات مرتبہ نامدھاری طبقے کے امیدواروں نے جیت حاصل کی ہے۔جبکہ صرف ایک بار برہمن طبقے کے امیدوار کو ایک بار پسماندہ طبقے کے اُمیدوار کو جیت حاصل ہوئی۔
1957میں جو الیکشن ہواتھا اس میں کانگریس پارٹی کے مسلم امیدوار جناب جوکا کو شمس الدین صاحب نے کامیابی درج کی پھر دوبارہ 1962میں ہوئے الیکشن میں بھی جوکاکو شمس الدین صاحب انتخاب جیت گئے ۔ وزارت بجلی کا قلمدان انہیں ملا اور انہی کے زمانے میں بھٹکل میں بھی الیکٹری سٹی آئی اور بجلی کے قمقموں سے شہر پہلی بار روشن ہوا۔اس کے بعد 1967میں انتخابات ہوئے تو اس وقت پی ایس پی نامی پارٹی سے نامدھاری طبقے کے جے ایم منجو ناتھ نے16,665ووٹ حاصل کرتے ہوئے جیت درج کی۔
1972 اور 1978میں کانگریس پارٹی سے مسلم امیدوار جناب ایس ایم یحییٰ نے اس سیٹ پر کامیابی حاصل کی اور وہ بھی وزارت کے قلمدان سے نوازے گئے۔ پہلی بار انہوں نے 22,751ووٹ اور دوسری مرتبہ30,800ووٹ حاصل کیے تھے۔1983میں جے این پی سے نامدھاری امیدوار (ہوناور کے ایڈوکیٹ) آر این نائک نے کانگریسی مسلم امیدوار جناب ایس ایم یحییٰ صاحب کوشکست دیتے ہوئے 30,119ووٹوں کے ساتھ الیکشن جیتا۔پھر آر این نائک نے دوبارہ اسی پارٹی سے 1985میں الیکشن جیتا ۔ اس کے بعد کانگریس پارٹی کی ٹکٹ پر آر این نائک نے 1989کا انتخاب بھی جیتا اور مسلسل تین مرتبہ رکن اسمبلی منتخب ہوئے ۔
پھر 1993کے بھٹکل فسادات کے بعد 1994میں حالانکہ مسلم سماج نے نامدھاری کانگریسی امیدوار لکشمی بائی (جے ڈی نائک کی ساس)کی متحدہ طور پرحمایت کا اعلان کیاتھا مگر زعفرانی سیاست نے اپنے جھنڈے گاڑھے اور پہلی مرتبہ بی جے پی کے امیدوار ڈاکٹر یو چترنجن نے 45,308 ووٹوں کے ساتھ کامیابی درج کی، جو کہ برہمن سماج کے فرد تھے۔ 1996میں ان کی ہلاکت کے بعد ہونے والے ضمنی انتخابات میں ہمدردی کی لہر چل پڑی اور نامدھاری طبقے کے بی جے پی امیدوار شیوانند نائک نے46,145 ووٹوں سے کامیابی حاصل کرتے ہوئے اسمبلی میں داخلہ لیا۔
1999میں پہلی بار میدان میں اترنے والے نامدھاری طبقے کے کانگریسی امیدوارجے ڈی نائک نے مسلم ووٹوں کے تعاون سے انتخاب میں جیت حاصل کی ۔جبکہ 2004میں ہوئے اسمبلی انتخاب میں نامدھاری طبقے کے امیدوار کانگریس کے جے ڈی نائک کو اسی طبقے کے بی جے پی امیدوار شیوانند نائک نے شکست دی اور دوسری مرتبہ اسمبلی میں داخل ہوئے۔اس کے بعد بننے والی مخلوط حکومت میں انہیں وزارت کا قلمدان بھی دیا گیا۔لیکن سال 2009میں دوبارہ کانگریس کی ٹکٹ پر مسلم ووٹوں کے اجتماعی تعاون سے میدان میں اترنے والے جے ڈی نائک نے 49,079 ووٹ حاصل کرتے ہوئے بھاری اکثریت سے جیت درج کی۔ 1957 کے بعد سے اب تک ہوئے انتخابات میں اتنی بڑی مقدار میں ووٹ پانے کا ریکارڈ جے ڈی نائک کے نام پر تاحال محفوظ ہے۔
سال 2013کے انتخابات میں تمام سیاسی پارٹیوں کو چکمہ دیتے ہوئے پسماندہ طبقے کے آزاد امیدوار منکال ایس وئیدیا نے اپنی جیت درج کی اور سیاسی پنڈتوں کو حیران کرکے رکھ دیا ۔اب دیکھنا یہ ہے کہ نامدھاری اور مسلم طبقے کے ووٹوں کے درمیان اچھلتی اورلڑھکتی ہوئی یہ گیند کس کے پالے میں جاکر رکتی ہے اور سال 2018میں کس پارٹی کا پرچم اس حلقۂ اسمبلی میں لہرانے والا ہے۔